روٹی آسمان سے نہیں گرتی

جس طرح الٹے سیدھے کھانے جسم کے حدوخال کو بدل کر رکھ دیتے ہیں اسی طرح آپ کی روح پر اخلاقیات سے روگردانی اثر کرتی ہے۔ شکل و شباہت تو نظر آتی ہے

مگر روح نہ نظر آنے کے باعث انسان اسے یکسر فراموش کر دیتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسم سے ذیادہ روح نظر آ رہی ہوتی ہے ، آپ کے کردار و اطوار کے طور پر۔

بہت سے لوگ جو ظاہر ی طور پر خود کو بہت بنا سنوار کر رکھتے ہیں ، اپنی روح کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں ۔ روح ایک شہد

کی مکھی کی طرح ہوتی ہے ،جو انسان کی عدم توجہ سے مکھی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے جہاں شہد جمع کرنا ہوتا ہے وہ گندگی جمع کرنے لگتی ہے۔

ہمارے ارد گرد باغ کم اور نالے ذیادہ ہیں ۔ ہمیں ہر دم چوکنا رہنا ہو گا۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری روح کو سرشار کرتے ہیں ۔ اسے اچھائی کی طرف لے جاتے ہیں ۔

کسی بچے پر ایک محبت بھری مسکان لٹا کر دیکھیں ۔ کسی کی مدد کر کے دیکھیں ، جو خوشی محسوس ہوتی ہے ، وہ آپ کوپیزا کھا کر بھی نہیں ہو گی۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ جسم الٹا سیدھا کھانے کے بعد اپنا آپ ظاہر کرنے لگتا ہے ۔ ہم رُک جاتے ہیں مگر روح ایک بار گندی ہو جائے ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ سمجھیں اس میں وہ سوراخ ہو جاتا ہے ،جو گندگی کو قبول کرنے لگتا ہے۔

اگر چوکنا ہو کر اس سوراخ کو رفو نہ کیا جائے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب مکمل روح بدل کر کچھ اور ہی ہو گئی۔ہم ان بُرائی کو بُرائی سمجھتے ہیں جو ہمیں پڑھا دی گئی ہیں ۔

سچ میں بُرائی وہ ہوتی ہے جو کرنے کے بعد آپ کا اپنا آپ بتاتا ہے کہ یہ غلط تھا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں اچھائی کے لیبل سے بُرائی فروخت کر رہے ہوتے ہیں ۔

ان نام نہاد اچھائی کے ٹھیکے داروں سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔کہانی پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ راجکماری نے پوجا کے بعد اپنی ماں سے کہا۔

اماں بڑی مشکل سے کام ملا ہے مجھے ، جلدی روٹی دے دو۔مجھے جانا ہے۔ چودہ سال کی راجکماری دین دھرم بس اتنا ہی جانتی تھی جتنا اماں نے بتا دیا تھا۔

اس سے ذیادہ جاننے میں اسے دلچسپی بھی نہیں تھی ۔ اسے دلچسپی تھی تو فقظ اس تنخواہ کر رقم میں جو اسے پہلی کو ملتی ۔ جس سے اماں کی دوائیاں،چھوٹے بہن بھائیوں کا کھانا آتا تھا۔

جسم جب خوراک کا متمنی نہیں رہتا تو روح کو زبان ملتی ہے مگر دنیا میں نوے فیصد لوگوں کے جسم کی بھوک انہیں روح کی نہ سننے دیتی ہے ،نہ ہی ان کی روح میں اس قدر سکت باقی رہتی ہے

کہ وہ روح کی سن سکیں ۔ یہ بھوک کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے۔ راجکماری روز اپنے کام پر جاتی اور شام کو چار بجے کے قریب واپس آ جاتی ۔ تھکی ہاری بستر پر پڑتے ہی سو جاتی ۔

پھر صبح اماں کو ایک پتھر کی مورتی کے آگے ہاتھ جوڑے دیکھتی ، اماں کے کہنے پر جلدی جلدی ہاتھ جوڑتی ماتھا ٹیکتی اور دوبارہ سے زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے بھاگ کھڑی ہوتی۔ مسلم گھرانوں کی عورتوں میں اکثر اس سے کپڑے ہی دھلاتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں